اودگیری 17/اکتوبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے شعبہ اصلاح معاشرہ کے تحت مراٹھواڑہ میں دس روزہ اصلاح معاشرہ مہم جاری ہے، مورخہ ۱۶؍اکتوبر پیرکے روز بعد نما ز مغرب بھاجی مارکیٹ اودگیر ضلع ( لاتور) میں ایک عظیم الشان جلسہ اصلاح معاشرہ منعقد ہوا ،جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب (رئیس جامعہ اسلامیہ دارالفلاح مدکھیڑ) نے فرمائی،آغاز میں مولانا اسماعیل قاسمی صاحب (خلیفہ پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جہالت اور کم علمی کے سبب بعض مسلمانوں کو اپنے دین پر مکمل طورپر اعتمادو اطمینان نہیں ہے،اس لیے ضروری ہے کہ ایسے مسلمانوں تک دین کا پیغام پہونچایا جائے،تا کہ انہیں بھی یہ یقین ہو کہ مذہب اسلام کی تمام تعلیمات عدل وانصاف پر مبنی ہیں، آپ کے بعد مولانا جنید الرحمن آزاد قاسمی صاحب کاخطاب ہوا انہوں نے لوگوں کو اپنے اندر استعداد وصلاحیت پیدا کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ قوموں کے مقدر کافیصلہ ان کی تعدادپر نہیں بلکہ استعداد پر ہواکرتاہے،مولانا نے قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے حدیث کے حوالے سے بتایاکہ اﷲ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم)کے ذریعے سے بعض قوموں کو بلندی عطا کرتاہے، اور بعض کو پستی میں ڈال دیتا ہے۔(مسلم شریف)
صدر اجلاس مولانا عبدالقدیرصاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ قرآن صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیاکے انسانوں کے لیے ہے، اور یہ کلام ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس دن یہ اٹھا لیا جائے گا اسی دن دنیا بھی فنا ہو جائے گی۔جناب مصباح الدین ہاشمی صاحب اور اصلاح معاشرہ کمیٹی لاتور کے کنوینر مولانا اسرائیل صاحب نے بھی موقع کی مناسبت سے مختصر اور مفید خطاب فرمایا۔اخیر میں مقررخصوصی حضرت مولانا مفتی حسنین محفوظ نعمانی صاحب (قاضی شریعت دارالقضاء مالیگاؤں) کاخطاب ہوا۔جس میں آپ نے فرمایا کہ ہم لوگ ملکی قوانین کا احترام کرنے والے لوگ ہیں، ان ہی قوانین کے تحت ہمیں اپنے دین و مذہب پر عمل کرنے کا پورااختیار دیاگیاہے،ملکی قوانین میں تبدیلی سے صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ملک میں بسنے والی تمام قوموں کا مذہبی حق تلف ہو جائے گا،اس لیے ملک کو ایک خاص تہذیب میں ڈھالنے کی کوششیں تمام اقوام کے خلا ف ایک سازش ہے،جسے روکنا ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔ آپ نے مسلمانوں کوشریعت اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی ،اور کہا کہ ہماری بے عملی اور کوتاہی کے نتیجہ میں برادران وطن میں بہت ساری غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
ناظم جلسہ مولانا نوشاد صاحب کو اصلاح معاشرہ کمیٹی اودگیر کاکنوینر منتخب کیا گیااوراسلامی قوانین میں ترمیم اورتبدیلی کی کوششوں کے خلاف تمام حاضرین کی متفقہ رائے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی،اسٹیج پر مختلف مکاتب فکر کے نمائند ہ حضرات تشریف فرماتھے جن میں مولانا عبدالغفور، محسن ابرارخاں صاحب ، ستار بھائی، آصف باغبان ،سیاح خاں قابل ذکر ہیں۔مفتی صاحب کی دعا پر یہ جلسہ بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔